ڈارونیت اور دجال ﴿مسیح مخالف﴾ کے عظیم فریب کو عقلی جنگ سے ہرایا جا چکا ہے۔

ڈارونیت خطرا کیوں ہے؟


Charles Darwin

ڈارونیت ایک خدا کا نہ ماننے والا اور مخالفٕ دین نظریہ ہے جو کہ اتفاق کو ہی سب کچھ مانتا ہے۔

ڈارونیت دنیا میں سب سے بڑا سائنسی فریب ہے۔

ارتقا کے حوالے سے جو بھی دعٰوی ڈارونیت کو ماننے والے کرتے ہیں وہ بلکل ہی جھوٹ ہے۔

نظریہ ارتقا کا سائنس سے قطعی تعلق نہیں ہے۔

نظریہ ارتقا کا سائنس سے قطعی تعلق نہیں ہے۔ ڈارونیت کا نظریہ ایک من گھڑت اور جھوٹا عقیدہ ہے جو کہ لوگوں کو اللہ پر ایمان لانے سے دور کرنے کہ لئے بنایا گیا ہے ﴿یقینن وہ ایسا کرنے میں ناکام ہی رہیں گے﴾۔ یہ نظریہ دجال ﴿مسیح مخالف﴾ کا آخر زماں میں سب بڑا رجحان ہے۔ اور کیوں کہ سماج اس سے بےخبر رہا ہے، اس نے انہیں لادینیت، جنگ، جبر اور تکالیف طرف دھکیل دیا۔ ڈارونیت سب لادینی رجحانات کا بنیادی ذریعا رہا ہے جیسے الحاد، کمیونزم ، اور مادہ پرستی۔ ڈارونیت بنیاد ہے سب جنگوں، دہشت گردی، خون ریزی ، نسل کشی ، وحشت اور تباہی کے منظرنامے کا جنہوں نے دنیا کو اس المیہ تک پہنچایا ہے۔ ڈارونیت دجال کا سب سے بڑاچالاک اور گمراہ کن طریقہ ہے۔ ڈارونیت کو ماننے والوں کے اندوشواسی خیالات کے مطابق، انسان صرف ایک جانور ہے۔اسی لئے وہ یہ سوچتے ہیں کہ انسان کی قدر اس کے مطابق کرنی چاہئے۔ ڈارون کا بنیادی تاثر ایسے بیان کیا جا سکتا ہے ًانسان ایک لڑنے والا جانور ہےً۔ اس کا نتیجہ ایک ایسا نظریہ بنا جس کی بنیاد انسانوں کے بیچ میں “survival of the fittest” کا اصول ہے۔ وہ جنہوں نے ڈارون کا زیر غورنظریہ اپنا لیا دنیا میں خونی تحریکوں جیسےکمیونزم اور فیزم کے وجود میں آنے کے ذمیدار ہیں۔ دوسری جنگٕ عظیم میں فاشسٹ اور نازی تحریکوں کے ذریعے 250 ملین سے زیادہ لوگ مارے گئے جو کہ ڈارون کے نظریئے کے زیرٕ اثر شروع ہوئی تھی۔ کمیونزم کے نتیجے میں سیاسی جبر کی وجہ سے ایک ارب سے زیادہ لوگوں نے اپنی جان گنوائی اوردہشت گردی کی وجہ سے بیشمار عداد میں اموات ہوئیں، یہ دونوں ایک بار پھر ڈارونیت کی وجہ سے پیدا ہوئی تھیں۔ کسی رعایت کے بغیر، سب سماجی تنازعات، جنگیں، دہشتگردی جو آج دنیا میں موجود ہیں ڈارونیت کی وجہ سے وجود میں آئے۔ اسی لئے نظریہ ارتقا دجال کی آخر زماں میں ، جس میں ہم رہ رہے ہیں، بدترین بد عملی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اللہ میں ایمان کا پوری دنیا میں پھیل جانے کا واحد راستہ، اور اس ظلم اور ناخوشی کا ختم ہونے کا راستہ، کافر مذہب ڈارونیت کاختم ہونا ہے۔ اس لادین مذہب کی جڑیں ایک عظیم فریب میں ہیں۔ اسی لئے اس اندوشواسی ارتقا کے عقیدے کو سائنس کے ذریعے ردکرنا بہت آسان ہے۔ ایکسوی صدی وہ دور ہے جس میں اس گمراہ کن نظرئے کی غیر منطقیت اور جھوٹےپن کو پورے طریقے سے بے نقاب کیا گیا ہے۔ یقیناً، جیسے کہ اس ویب سائٹ پے دی گئی ہوئی معلومات سے دیکھا جا سکتا ہے، جیسے ہی ارتقا کا فریب بے نقاب ہوتا ہے، ڈارون کا یہ اوہام پرستانہ مذہب، جس نے دنیا کو دھوکے میں رکھا ہوئا ہے اور اسے اس بدحالی تک پنہچایا ہے، بلکل ختم ہوجائے گا۔

ارتقا پسندوں کا جهوٹا خدا “اتفاق” ہے۔

ڈارونیت پسندوں کے مطابق، زندگی کا زمین پے غیر معمولی طور پے مختلف قسم کا ہونا صرف ایک “اتفاق” کی وجہ سے ہے۔ یہ کہنے سے بچنے کے لئے کہ “اﷲ نے انہیں بنایا” ڈارونیت پسندوں نے اتفاق کو ہی اپنا خدا مان لیا ہے اور یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ اندھے اور ناقابلِ یقین واقعات نے اس شاندار اور حیران کن طور پر پیچیدہ زندگی کے نظام کی بنیاد رکھی۔ڈارونیت نے اس مضحکہ خیز اور سطحی نظرئے سے لوگوں کو اندھیرے میں رکھنا ممکن بنا لیا۔ جس طریقے سے پروفیسرز یونیورسٹیز میں لیکچرس دیتے ہیں اور سائنسدان اور اساتذہ جنہوں نے پڑھا ہے اور تحقیق کی ہےوہ ان بے ترتیب واقعات کو ایسے پیش کرتے ہیں جیسے کہ ان واقعات کو تخلیقی عقلمندی تھی اور سوچنے کے اور فیصلے لینے کے قابل تھے، اور جیسے وہ ہی تھے جنہوں نے ایسے غیر معمولی نظام پیدا کئے۔﴿معاذ اﷲ﴾

ارتقا پسندوں کا جهوٹا خدا “اتفاق” ہے۔

اتفاق ارتقا پسندوں کا جهوٹا خدا ہے، جسے سمجھا جاتا ہے کہ اس نے سب چیزوں کو پیدا کیا اور معجزات کرتا ہے۔ ڈارون کے سرسری نقطہ نظر کے مطابق، وقت اور اتفاق، عجیب طریقے سے ہر چیز میں زندگی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ غیر منطقی نظریہ یہ بتاتا ہے کہ اتفاق وہ کرلیتا ہے جو کہ انسان بھی نہیں کرسکتا اور ایک طرح سے سائنسدانوں اور ان کی لیبارٹریز سے کئی گنا زیادہ علم، صَلاحِیتیں اور وَسائِل رکھتا ہے۔ یقیناً،کسی بھی باخبر اور غور و فکر کرنے والے اور صحیح اور غلط کی پرکھ رکھنے والے شخص کے لئے اس دعوٰے کو صحیح ماننا ناممکن ہے۔ یقیناً، جو بھی تحریریں جناب عدنان اوقتار نے نظریہ ارتقا کو غلط ثابت کرنے کے لئے پچھلے ۳۰ سال سے لکھی ہیں لوگوں کے لئے اس نظرئے کی غیرمنطقیت اور اس کے کھوکھلےپن کو محسوس کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جناب اوقتار کے عالمی سطح پر اس نظرئے کی غیرمنطقیت اور بیوقوفی کو دنیا میں اچھالنے کے نتیجے میں ارتقا پسندوں نے “اتفاق” کا لفظ استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ یہ تصور کر رہے ہیں کہ دوسرے اتنے ہی غیر منطقی الفاظ استعمال کر کہ خود کو بیوقوف لگنے سے بچالینگے۔ چاہے وہ حادثہ، یا اتفاق، یا بے ترتیب واقعات کی بات کریں ، تب بھی وہ ایک ایسے منظرنامے کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس میں غیر شعوری واقعات ایک متوازن، سڈول اور غیر معمولی طور پر خوبصورت زندگی والی دنیا پیدا کرتے ہیں۔ پر یہ دعٰوے ان کو مزید رحم کے قابل بنا دیتے ہیں۔

ڈارونیت پسند جو کہ زندگی کی ابتدا کو ارتقاء کی اصطلاحات میں بیان کرنا چاہتے ہیں یہ بتانے سے بھی قاصر ہیں کہ صرف ایک واحد پروٹین بھی اپنے آپ کیسے وجود میں آیا۔ یہ پہلی اور بہت اہم حقیقت ہےجو کہ ڈارونیت پسندوں کے دھوکے کے بارے میں جاننی چاہئے۔ ایک پروٹین کی بھی تشکیل کے بارے میں بتانے سے قاصر، ڈارونیت پسند واضح طور پردھوکہ دہی کا سہارالے رہے ہیں ۔ جو بھی من گھڑت کہانی وہ زندگی کی ابتدا میں بتاتے ہیں سب مصنوعی ہے۔جس طریقے سے یہ روشنی کی طرف آیا ہے اور جس طرح سے لاکھوں زندہ فوسلس جو کہ کئی سئو لاکھ سال بنا تبدیل ہوئے رہیں ہیں ڈارونیت کے خاتمے کو یقینی بنا دیا ہے۔

دو بنیادی دلائل جوکہ ارتقا کو کچلنے میں کافی رہے ہیں۔

١۔ ایک واحد پروٹین نے ہی ارتقا کو پورے طریقے سے ختم کردیا ہے۔

1-A single protein has totally demolished evolution

ارتقا کو ماننے والے چاہے کتنے بھی جھوٹی اور فارمولوں سے بھری کتبا٫ لکھیں، کتنے بھی جالی فوسلس پیدا کریں، تخلیق پر سائنسی شواہد کو جس طریقے سے بھی غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں اور ارتقاء کی جھوٹی وضاحتیں دینے والے پوسٹرس ہر جگہ لگائیں اور پوری دنیا میں انہیں ارتقاء کی نمائش کے طور پے پیش کریں، پر ان میں سے کچھ بھی ان کی شکست کی حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔ یہ اس لئے کہ وہ ایک بھی وضاحت پیش کرنے میں ناکام رہیں ہیں کہ آخر صرف ایک پروٹین بھی کیسے وجود میں آیا۔پروٹین ،زندگی کا سب سے بنیادی جزو، کا خود بہ خود وجود میں آنے کا امکان صفر ہے؛ اس لئے کہ اس خطے میں جہاں پے ایک اور پروٹین کو بننا ہے پہلے سے ہی ١۰۰ تک پروٹینس کا تسلسل میں موجود ہونا ضروری ہے ۔اس شاندار پیچیدہ ڈھانچے کی شاندار تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حقیقت کہ ایک پروٹین دوسرے پروٹینس کی غیرموجودگی میں بن نہیں سکتا خود ڈارونیت کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہے۔پر جو بھگدڑ ایک پروٹین نے ارتقا پسندوں کے لئے مچادی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔

In addition:

  • - ڈی این اے (DNA) پروٹین کی پیدائش کے لئے ضروری ہے۔
  • - ڈی این اے (DNA) پروٹین کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔
  • - پروٹین ڈی این اے (DNA) کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔
  • - پروٹین دوسرے پروٹینس کی غیرموجودگی میں بن نہیں سکتا ۔
  • - پروٹین دوسرے پروٹینس میں سے کسی ایک کی بھی غیرموجودگی میں بن نہیں سکتا۔
  • - پروٹین رائبوسوم ﴿ ribosome﴾کی غیرموجودگی میں بن نہیں سکتا۔
  • - پروٹین آر این اے ﴿RNA﴾کی غیرموجودگی میں بن نہیں سکتا۔
  • - پروٹین اے ٹی پی ﴿ATP﴾کی غیرموجودگی میں بن نہیں سکتا۔
  • - پروٹین ﴿ mitochondria﴾کی غیرموجودگی میں بن نہیں سکتا۔
  • - پروٹین سیل نیوکلیس﴿Cell Nucleus﴾کی غیرموجودگی میں بن نہیں سکتا۔
  • - پروٹین سائٹوپلازم ﴿cytoplasm﴾کی غیرموجودگی میں بن نہیں سکتا۔
  • - پروٹین ایک بھی خلوی عضو ﴿cell organelle﴾کی غیرموجودگی میں بن نہیں سکتا۔
  • - اور ہر خلوی عضو کی موجودگی اور کام کرنے کے لئے پروٹینس ضروری ہیں ۔
  • لحمیہ ﴿protein﴾ کی تخلیق کے لئے مکمل خلیہ ضروری ہے۔ مکمل خَلْیے کی غیر موجودگی میں لحمیہ ﴿protein﴾ کی تخلیق ناممکن ہے۔ جو آج ہم اس کی کامل پیچیدہ ساخت دیکھتے ہیں پر اس میں سے ہم بلکل تھوڑا حصا ہی سمجھتے ہیں۔

Simply put ,

THE WHOLE CELL IS NECESSARY FOR A PROTEIN TO FORM. IT IS IMPOSSIBLE FOR A SINGLE PROTEIN TO FORM IN THE ABSENCE OF THE WHOLE CELL, with its perfect complex structure we see today, but of which we understand only a very small part.

ان حقیقتوں کو مدٕنظر رکھتے ہوئے ارتقاء پسندوں کو کسی نئے منظرناموں کے ساتھ آنا پڑا۔ ان میں سے ایک رچرڈ ڈاکنس اور کچھ اور ارتقا پسندوں کا“a spontaneously replicating molecule” ﴿سالمہ کی خود جیسا ایک اور سالمہ بنانے کی قابلیت﴾ دعٰوی ہے، جو کہ پوری طرح طفلانہ ہے اور صرف دھوکا دینے کے لئے بنایا گیا ہے۔انسانی جسم میں کوئی سالمہ خود جیسا ایک اور سالمہ کسی دوسرے سالمے کی مدد کے بغیر نہیں بنا سکتا۔

جیسے کہ ہم نے دیکھا ہے، نظریہ ارتقاء نے شروع سے ہی خوفناک دھچکوں کا سامنا کیا ہے۔جس طرح سے ارتقاء پسند، ایک پروٹین کی تخلیق بتانے سے بھی قاصر، لوگوں کو زندگی کا زمین پے موجودگی کے بارے میں دھوکا دینا چاہتے ہیں یہ اس بات کا پکا ثبوت ہے کہ ارتقاء صرف اور صرف ایک دھوکا ہے۔

 

۳۵۰ ملین فوسلس کی صورت میں ارتقاء تباہ ہو چکا ہے۔

جب بات فوسلس کی آتی ہے تب بھی ارتقا پسند فریب اور جعلسازی کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کو لگاتارجالی اور عارضی اشکال، جو وہ خود بناتے ہیں، اور جعلی تصویروں، ماڈلس اور تشریحات کی مدد سے دھوکا دیتے رہتے ہیں۔وہ انہیں اپنا نظریہ پھیلانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پر حقیقت یہ ہے کہ آج تک ارتقا ٫ کے ماننے والوں میں سے کسی ایک نے بھی کوئی فوسل ہاتھ میں لےکر یہ کہنے کی ہمت نہیں کی “ہم ارتقا٫ کو ثابت کرے کے لئے یہ ثبوت لائے ہیں۔” یہ اس لئے کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے، ایک بھی عبوری شکل ﴿transitional form﴾ کا وجود نہیں ہے۔

یہ کئی سالوں سے ڈارونیت کو ماننے والوں کے لئے ایک چونکانے والی حقیقت ہے کیوں کہ ڈارونیت والوں کی اشاعتیں ہمیشہ عارضی اشکال ﴿ transitional form﴾ جو کہ ارتقا٫ کی توثیق کرتے ہیں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ پر حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی درمیانی شکل والا فوسلس کبھی ملا ہی نہیں۔ یہ ڈارونیت کے ماننے والوں کا بنایا ہوا دوسرا جھوٹ ہے۔۳۵۰ ملین سے بھی زیادہ فوسلس دریافت کیے گئے ہیں۔ان میں سے ایک بھی درمیانی شکل میں نہیں ہے۔ جو بھی جواشیم ڈارونیت پسندوں نے درمیانی شکل کا بتا کے پیش کیا ہےوہ جھوٹ نکلا ہے۔ ان ۳۵۰ ملین سے بھی زیادہ فوسلس میں سے کئی تو لاکھوں سال پہلے کے ہیں جو کہ آج بھی موجود ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، یہ زندہ فوسلس ہیں۔ وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زندہ چیزوں میں لاکھوں سالوں سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ باقی فوسلس یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کچھ جاندار پہلے زمین پے موجود تھے پر آج وہ نہیں رہے۔ فوسلس یہ ثابت کرتے میں کہ لاکھوں سال پہلے بھی ان کی بناوت میں وسیع اور شاندار پیچیدگی تھی۔ یہ ارتقا٫ کی تباہی کا جامع اور سائنسی ثبوت ہے۔

سائنس کی ہر شاخ ارتقا٫ کو رد کرتی ہے۔ہر سائنسی دریافت زیادہ ٹھوس گواہی سے ڈارونیت کا انکار کرتی ہے۔ پر جیسا کہ ہم یہاں جن دو ثبوتوں - پروٹین اور جواشیم کی صورت میں ارتقا٫ کا رد- کے بارے میں بات کر رہے ہیں ، اپنے طور پر ارتقا کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کسی اور گواہی کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ پھر بھی ارتقا٫ کے پیروکاروں کے دعوے کے جواب میں نیچے پیجز میں بنیادی مسائل اٹھائے گئے ہیں۔

  انسان کے فرضی ارتقاء کے بارے میں قیاس آرائی ڈارونیت کے فراڈ کا ایک اہم حصا ہے  
   
   
   
   
   
   
   
   
   
   
   
   
   
   

Speculation Regarding the Fictitious Evolution of Man Is a Major Component of Darwinist Fraud

جیسا کہ ہم نے نیچے تفصیل سے واضح کیا ہے کہ ارتقاء کی آمریت کو پوری دنیا میں غلبہ حاصل ہے، بااثر ڈارونیت کو سپورٹ کرنے والے میڈیا کے ذریعہ، سالوں تک بندر نما انسان کے دہوکے کو استعمال کرتی رہی۔ تقریبا دریافت ہوئے ہر بندر کے فوسلس کو دھوکہ دہی کی خاطر استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم ہر موقع پر، ارتقاء کے ثبوت کے طور پر پیش کیے جانے والے ہر فوسلس کو ایک عام بندر سے تعلق رکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور اس طرح اسے بلکل رد کیا گیا ہے۔یہ ایک ارتقاء پسندوں کا جانا پہچانا دھوکہ ہے۔ اس کے علاوہ، انسان اور بندر کے درمیان مماثلت دکھانے کے لیے ارتقاء پسند ایک بندر کو پیش کرتے ہیں اور اس کے رویے اور صلاحیتوں کی مختلف اقسام جیسے کہ آلات کا استعمال اور سیکھنے کی صلاحیت کا ایک بڑا نمونا دکھاتے ہیں۔ ان کے ليے اس کا مقصد، ان لوگوں کے دماغوں میں جنہیں ارتقاء کے فریب کا علم نہیں یہ بات بٹھانا ہے کہ انسان کے وجود کا سبب بندر ہے۔یہ ایک سچ ہے کہ بندر اور انسان میں کچھ ایسی خاصیتیں ہیں جو ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ پر یہ سچ اس حقیقت کو بدل نہیں سکتا کہ انسان اور بندر ایک انتہائی مختلف جاندار ہیں۔ اﷲ کے حکم کے بغیر، تب تک جب تک وہ اس دنیا میں ہے بندر کبھی بھی بندر کے علاوہ کچھ اور نہیں بن سکتا۔ چاہے انہیں جتنا بھی ٹرین کیا جائے وہ کبھی بھی انسان نہیں بن سکتے۔ نا ہی انسانوں والی خصوصیات جیسے کہ سوچنے کی صلاحیت، محسوس کرنا، سمجھنا، اندازہ لگانا،سمجھداری سے برتاؤ کرنا، فیصلے کرنا اور ایک مہذب اور تمیز والے انداز میں برتاؤ کرناحاصل کر سکتے ہیں۔ چاہے وہ اپنی کاوشیں کتنی مرتبا دہرائیں بندر کبھی بھی ہوائی جہاز کو ڈزائن، فلک بوس عمارات کی تعمیر، نظمیں لکھنا یا تجربہ گاہوں میں مطالعہ ہرگز نہیں کر سکتے۔ چاہے وہ کتنی بھی تربیت حاصل کرلیں وہ کبھی بھی ایک پروجیکٹ کو ڈزائن کرنے کے قابل نہیں بن سکتے ناہی وہ منصوبہ بندی اور سوچ سمجھ سے کام لیتے ہوئے کوئی اعلٰی تہذیب بنا سکتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ بندر ایک ایسا جاندار ہے جس کو اﷲ نے مختلف جسمانی خصوصیات سے نوازا ہے جو اسے خاص بناتی ہیں، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ انسانی شعور، دماغ اور روح سے خالی ہے۔ یہ حقیقت کہ اس کے پاس کچھ خصوصیات ہیں ہرگز اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ انسان کے وجود کا ذریعہ ہے۔

یہ روح ہی ہے جو کہ اللہ نے ایک نعمت کے طورپر عطا کی ہے جو کہ انسان کو انسان بناتی ہے۔

ان دعووں کو کرتے وقت ارتقاء پسند انسان اور بندروں کے درمیان بنیادی فرق بھول جاتے ہیں ۔ انسان بولنے کے قابل ہے وہ یہ کہہ سکتا ہے ‘میں ہوں’ وہ اپنے وجود سے باخبر ہے اور اپنی موجودگی کا سبب بھی جانتا ہے۔ یہ اپنے وجود کے ہونے پر غور و فکر کر سکتا ہے اور فیصلے کر سکتا ہے۔انسان کے پاس روح ہے۔ اس سبب کی وجہ سے، انسان دوسرے جانداروں سے بلکل ہی مختلف ہے۔روح کے وجود کے مقابلے میں، جسمانی اختلافات اور مہارت کی خصوصیات انسان اور دوسری مخلوقات کا فرق نہیں پیدا کرسکتیں ۔ چاہے ایک جاندار انسانوں سے ظاہری شکل میںمختلف ہو لیکن اگر اس کے پاس روح ہے تہ وہ انسان ہے۔ یہی واحد چیز ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔ کوئی بھی مادیت پسند وضاحت ایک جیتےجاگتے وجود جو کہ خود سے واقف ہے اور کہہ سکتا ہے ٴمیں ہوٴ کی وضاحت نہیں کر سکتی۔ کوئی بھی مادیت پسند وضاحت یہ واضح نہیں کر سکتی کہ کیسے ایک اپنے وجود سے ہی بیخبر چیز اپنے آپ کو اس شکل میں تبدیل کیا جس کے پاس روح ہے اور اپنے آپ سے باخبر ہے۔یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں ڈارونیت پسند بات کرنا نہیں چاہتے۔اور ان پر بہت تکلیف مسلط کرتی ہے جب وہ انسان کی ارتقاء کے بارے میں بات کرتے ہیں اور غلط طریقوں سے ارتقاء کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (http://darwinistsdilemma.com)

اسی لیے، انسان کی ارتقاء کے بارے میں سارے دعٰوے جو کہ ارتقاء پسند اپنی اشاعتوں میں کرتی ہیں سب غلط ہیں۔سب سے پہلے، ان کو ثابت کرنا ہوگا کہ کیا چیز انسان کو انسان بناتی ہے؟ جو چیز انسان دیکھتا ہے اور سنتا ہے وہ اس پہ کس طرح اثر کرتی ہے؟ وہ ان کے بارے میں کیسے سوچتا ہے، منطق استعمال کرتا ہے، احساسات رکھتا ہے جیسے پیار اور وفاداری، اور روح رکھتا ہے جو اسے پرکھنے اور فیصلا کرنے میں مدد کرتی ہے۔ پر وہ اس معاملے میں کوئی بھی وضاحت دینے سے قاصر ہیں، اور یہ کرنا ان کے لئے ناممکن ہے۔درحقیقت، شعور ، روح جو انسان کو انسان بناتی ہے، کی ابتداء اﷲ تعالٰی کے پاس ہے۔ اﷲ تعالٰی نے اسے اپنی طرف سے ہمیں رحمت کی طور پر عطا کیا ہے اور اسی طرح انسان کو دودسری مخلوقات سے مختلف کر دیا۔

ارتقاء پسند اس معاملے پر گونگے اور ہکا بکا رہ گئے ہیں۔ “جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا (یعنی) اس کو پیدا کیا۔ اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔ پھر اس کی نسل خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کی۔ پھر اُس کو درست کیا پھر اس میں اپنی( طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو۔”﴿سورت السجدہ، ۷،۸﴾

 

بے ترتيب اتپریورتنوں زندگی کو ختم کرتیں ہیں اور باہمی مطابقت رکھنے والے اعضاء پیدا نہیں کر سکتیں۔

ارتقاء پرست اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ جاندار اشیاء اتفاقی اتپریورتنوں ﴿mutations﴾ کی وجہ سے وجود میں آتیں ہیں اور ان اندھے اور بیخبر اتپریورتنوں نے زندگی کے تمام شاندار اور مختلف قسم کے جانداروں کو جو کہ ہم آج زمین پر دیکھتے ہیں کو جنم دیا.

یہ دعوی ایک سنگین منطقی بے اصولی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اتپریورتنوں تابکاری ﴿radiation﴾ یا کیمیائی اثرات کے نتیجے میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ، نقصان اور بد نظمی ہیں جو کہ زندہ سیل کے نیوکلس میں واقع ہوتی ہیں جس میں اس کی جینیاتی معلومات ہوتی ہے۔ ننیانوی فی صد اتپریورتنوں نامیاتی جسم کو نقصان پہنچاتی ہیں باقی ایک فی صد کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ایسی کوئی ایک بھی اتپریورتن نہیں ملی کو کہ کسی بھی نامیاتی جسم کے لئے فائدہ مند ہو۔ اس کے علاوہ،

  • • ارتقاء پرستوں کے دعٰووں کے مطابق، اتپریورتنوں کو ایسی تبدیلیاں کرنے ہونگی جو کہ پورے جسم کے لئے متناسب اور باہمی مطابقت رکھتی ہوں۔
  • • ارتقاء پرستوں کے دعٰووں کے مطابق، مثال کے طور پے، اگر ایک کان اتپریورتنوں کی وجہ سے دائیں طرف پیدا ہوتا ہے تو بےترتیب اتپریورتنیں بائیں طرف ایک دوسرا کان پیدا کریں جس کی خصوصیات ہوں جو کہ پہلے والے کی ہیں۔ اور دونوں کانوں کا ہر حصا بلکل ایک جیسا ہو۔
  • • بے ترتيب اتپریورتنوں کو دونوں اطراف کے کارونری والوز ﴿ coronary valves ﴾قائم کرنے ہونگے۔ ڈارونیت پرستوں کے دعٰووں کے مطابق، اتپریورتنوں کو سب والوز ایک ہی وقت میں اور برابر ہم آہنگی میں بہترین شکل اور بالکل صحیح جگہ میں بنانے ہونگے۔
  • • ورنہ وہاں ایک بہت بڑا عدم توازن ہو جائے گا، اور نتیجہ عجیب مخلوقات کا ہوسکتا ہے جن کے کان اوپر نیچے ، بےترتیب دانت یا ایک آنکھ ناک پر اور ایک ماتھے پر ہونگے۔پر جیسا کہ زندگی میں ایسا کوئی عدم توازن نہیں، ارتقاء پرستوں کے دعٰووں کا مطلب یے ہے کہ اتپریورتنوں کو ہر چیز ایک بالکل سڈول اور باہمی مطابقت رکھنے والی شکل میں پیدا کرنی ہونگی۔
  • • پر یہ حقیقت کہ، اتپریورتنیں 99 ٪ نقصان دہ ہیں اور 1 فیصد غیر موثر ہیں اس بات کو ناممکن بنا دیتی ہے کہ وہ ایک ہی وقت پر ہم آہنگ اور سڈول اعضاء تیار کرنے کے لئے قابل ہو جائیں۔
  • • اتپریورتنوں کا ایک عام ڈھانچے پر اثر اس پر مشین گن سے گولیاں چلانے جیسا ہے۔ظاہر بات ہے ایک صحت مند چیز پر فائرنگ ، اسے برباد کر دے گی۔ یہ حقیقت کہ ایک گولی کوئی اثر نہیں کرتی یا جسم میں پہلے سے موجود ایک انفیکشن کو خارج کر دیتی ہے اور اس طریقے سے اس سے چھٹکارا دلاتی ہے کوئی تبدیلی نہیں لاتی۔اس جسم کو دوسرے ۹۹ نے تباہ کریا ہے۔


سائنس ارتقا پسند اور الحاد پسند کے مخالف ہے

ارتقاء ایک سائنسی فراڈ ہے۔ کئی سالوں سے، ارتقاء پرست سائنس کے نام پر ارتقاء سے لوگوں کو دھوکا دیتے رہے ہیں۔ سائنس نظریہ ارتقا کا دشمن ہے. سائنس نظریہ ارتقاء کے خلاف ہے. سائنس اشتراکیت پسند اور مارکسِزم کا مخالف ہے. سائنس ملحد، مارکسِزم اور نظریہ ارتقاء کی سوچ کو تباہ کرتا ہے۔ سائنس ہی ہے جس نے نظریہ ارتقاء کے دھوکہ و فریب کو ریزا ریزا کیا ہے۔ یہ سائنس ہی ہے جس نے نظریہ ارتقاء کی تبیلغ کو سب سے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ سائنس نے نظریہ ارتقاء کے فریب کو، جو سالوں سےلوگوں کو پیش کیا گیا، ہرا دیا ہے۔ سائنس نے ملحد فلسفہ کی بنیاد کو ہلاک کر ڈالا ہے۔سائنس نظریہ ارتقاء کو نیست و نابود کر دیتا ہے ، جب بھی یہ حالیہ مسئلہ بن جاتا ہے اور جب بھی یہ خود کو ظاہر کرتا ہے۔ لہذا، سائنس ارتقاء پسندوں کے لئے سب سے بڑا مسئلا بن کر سامنے آتا ہے۔

یہ سائنس ہی ہے جس نے ثابت کیا ہے کہ پروٹین اتفاق سے وجود میں نہیں آ سکتا۔

یہ سائنس ہی ہے جس نے خلیہ کی غیر معمولی دنیا کو ظاہر کیا ہے، اور دکھایا ہے کہ یہ محض اتفاق سے پیدا نہیں ہو سکتا۔

یہ سائنس ہی ہے جس نے اس حقیقت کو سامنے لایا ہے کہ ۳۵۰ ملین سے بھی زیادہ فوسلس کبھی ایوالو ﴿evolve﴾ نہیں ہوئے۔

یہ سائنس ہی ہے جس نے زندہ اجسام میں پیچیدگیوں کو منظرعام پے لایا ہے اور دکھایا ہے کہ یہ ارتقاء کے ذریعے کبھی بھی وجود میں نہیں آ سکتے تھے۔

یہ سائنس ہی ہے جس نے دکھایا ہے کہ ایک حیاتی کا دوسری میں تبدیل ہو جانا ناممکن ہے۔

یہ سائنس ہی ہے جس نے کیمبرین دور ﴿ Cambrian period﴾ کے شاندار فوسلس کو طاہر کیا ہے۔ لہذا، خود سائنس نے ارتقاء کو رد کرنے کے لیے تمام ثبوت پیش کئے ہیں اور یہ کرتا رہے گا۔ سائنس کے آگے ارتقاء پرستوں کے سارے دعٰوے دم تور جاتے ہیں۔ سائنس ایک شاندار نتیجہ دیتا ہے جو کہ ڈارونیت پسندوں کو بلکل رد کرتا ہے جو کہ خود کے جھوٹ کو سائنس کے ذریعے چھپانا چاہتے ہیں۔ نا صرف سائنس دین کی خدمت کرتا ہے پر وہ اﷲ کی موجودگی کو بھی ثابت کرتا ہے۔ سائنس ان کے لئے ہے جو کہ اﷲ پے ایمان رکھتے ہیں۔ سائنس ایمان والوں کے استعمال کے لئے ہے۔ یہ حقیقت ایکیسوی صدی میں ارتقاء کے ماننے والوں کے ليے سر درد بن گئی ہے۔

“الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو۔ ” (سورت البقرہ، ۲٦)

“لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ کہ جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں۔ اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب (یعنی عابد اور معبود دونوں) گئے گزرے ہیں۔ ” (سورت الحج، ۷۳)

ڈارونزم نے دنیا میں کیسے غلبہ حاصل کیا

ڈارون کا نظریہ پوری طرح ایک دھوکا ہے جس کی بنیاد جھوٹ ہے، ایک ایسا جھوٹ جو کے کہتا ہے کہ سب حیاتی ایک اتفاق کی بدولت وجود میں آئی۔ لیکن مکمل طور پر غیر معقول ہونے کے باوجود، اس فریب نے ساری دنیا کے ممالک، ان کی حکومتوں، سکولوں، یونیورسٹیز، سائنسی حلقوں، آفسز، اخبارات، رسالوں، ریڈیو چینلز اور ٹی وی اسٹیشنز پر غلبہ حاصل کیا ہے۔یہ Darwinist dictatorship، ہوشیار اور شیطانی نظام، ہے جس نے ارتقاء کے دھوکے کو دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے آگے کیا۔ یہ شاتر آمریت، جو کہ گزشتہ 150 سالوں سے کام کر رہی ہے، اب موت کا درد چکھ رہی ہے۔ البتہ اس کا اثر ابھی بھی باقی ہے۔


ڈارون آمریت کی بادشاہی کی بنیاد دباؤ، جبر اور دھمکیاں ہیں۔ دنیا کی کسی یونیورسٹی میں پڑھانا کسی ارتقاء کے مخالف پروفیسر کے لئے ناممکن ہے۔ کوئی بھی وزیر اعظم ڈارونزم کی مخالفت کا اعلان نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی استاد اپنے شاگردوں کو یہ نہیں پڑھا سکتا کہ نظریہ ارتقاء غلط ہے اور شاگرد اپنے اساتذہ کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ارتقاء میں یقین نہیں رکھتے۔اگر کوئی بھی استاد یا پروفیسر ایسا کرتا ہے تو اسے جلدی ہی اپنی پوسٹ سے نکالا جائے گا۔شاگرد اپنا وہ سبجکٹ فیل کردیگا۔ ارتقاء کے مخالف وزیر کے لئے حکومت میں رہنا ناممکن ہے۔ درحقیقت، دنیا بھر میں اسکولس میں ارتقاء کے ساتھ تخلیق کی حقیقت پڑھانے کی تقریباً سب کاوشیں ناکام گئی ہیں۔

مشہور پریس تنظیموں کو جھوٹے فاسلس سے متعلق رپورٹ اس طرح ظاہر کرنی پڑتی ہیں جیسے کہ وہ ارتقاء کا ثبوت ہوں۔ انہیں اس دھوکے میں حصا لینا پڑتا ہے ورنہ ان کے اشاعت کے حقوق ختم کردئے جائے گے۔ کوئی دوسری پوسٹ تلاش کرنا اس سائنسدان یا پروفسر کے لئے ناممکن ہے جن کی پیشہ ورانہ زندگی تخلیق کی تائید کرنے کی وجہ سے ختم کردی گئی ہو۔ممکن ہے، وہ شخص اپنے دوست اور احباب سے بھی دور کردیا جائے۔اور یقینن اس کے لئے سائنسی حلقے میں جگہ بنانا ناممکن ہو جائے گا۔

ظلم، جبر اور آمریت والا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ارتقاء کی آمریت کی دھمکیوں اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے لوگ کھلے عام ڈارونیت کی مخالفت کا اظہار کرنے کے قابل نہیں رہے، بلکہ آج تک ان کو اس میں اور بھی کردار ادا کرنا پڑا۔ ڈارونیت کو مسترد ہونے سے بچانے کے لئے ہر راستہ اپنایا گیا ہے۔ ورنہ ڈارونزم کے اندوشواسی عقیدے کے حامیوں کے پاس اس بے بنیاد عقیدے کو قائم رکھنے کے لئے کوئی طریقہ نہیں بچتا ۔ جھوٹ کو بلندآواز میں کہا جاتا ہے ، اور انہیں جھوٹ کہنا ایک غلطی قرار دیا جاتا ہے۔ایک نظریہ جو جب آیا تھا تو اسے سائنسی نظریہ ہونے کا دعٰوی کیا گیا ایک اندوشواسی اور جھوٹے یقین میں بدل گیا ہے جس کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں، ایک ایسا یقین جس کے مسترد ہونے کو باضانطہ اور کھلے عام روکا جا رہا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کس طرح یہ بنا کسی پشیمانی کے وحشیانہ طور پر کیا جا رہا ہے۔

ارتقاء کا نظریہ، جو کہ دنیا پربہت ساری آفات کا سبب بنا ہے، سائنس کی ترقی کو بھی روکتا ہے۔

دیگر پروفیسرز جنہیں تخلیق جی حقیقت کا چرچا کرنے کی وجہ سے اپنے دفتر سے ہٹا دیا گیا تھا
   
 

آج لاکھوں ڈالرز ارتقاء کی حمایت میں ہونے والے مطالعہ پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ ارتقاء کے مطالعہ کا مطلب ہے نئے فریب کی تعمیر اور اسے میڈیا کے ذریعے پھیلانے کی تیاریاں۔ یہ پیسا، جو کہ سائنس کی ترقی ، طبی مقاصد، کینسر کے علاج جیسے کہ الزائمر کی بیماری کے خاتمے کے لئے استعمال ہو سکتا تھا، یا پھر افریقا میں اکال کی وجہ سے لاکھوں افراد کو مرنے سے بچانے کے لئے استعمال ہو سکتا تھا۔پر اس پیسے کو معصوم لوگوں سے دور کر کے ایک فریب میں لگایا جا رہا ہے۔

ارتقاء، جو کہ ١۵۰ سالوں کا سب سے بڑا فریب ہے، دنیا بھر میں پھلایا گیا ہے اور ڈارونزم آمریت کی تکنیک استعمال کر کہ لوگوں پر اس کا اثر چھوڑا گیا ہے۔جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، ڈارونزم کو پوری دنیا میں حمایت حاصل ہے، اس لیے نہیں کہ یہ ایک سائنسی نظریہ ہے پر اس لیے کہ لوگوں پر اسے ماننے کے لیے دباؤ دالا گیا ہے۔ لوگوں کو اس حقیقت سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ زیادہ تر لوگ اس نظریہ کو سپورٹ کرتے ہیں کیوں کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ ڈارونیت تاریخ کا سب سے بڑا فریب ہے، جب کہ دوسرے اسے اپنی جابس کھونے کے ڈر کی وجہ سے ماننے پر مجبور ہیں۔ڈارون آمریت کیادیا ہوئا اس غلط تھیوری کا عالمی تسلط اور اس کے سڑی ہوئی بنیادیں کا ایک بعد ایک ستیاناش کیا جا رہا ہے۔اﷲ تعالٰی کے حکم سے، اب ارتقاء کے نظریے کا مکمل خاتما صرف وقت کی بات ہے جو کہ دور نہیں ہے۔

نقشہء تخلیق ﴿Atlas of creation﴾ اور ارتقاء پرست جنہوں نے اپنے نظریہ پر یقین کھو دیا۔

اگر بند کمرے میں موجود ایک شخص کو بتا دیا جائے کہ باہر اندھیرا ہے تو ۵۰ فیصدممکن ہے کہ وہ یقین کر لیگا۔اگر اس نے کسی شگاف کے ذریعے دیکھ لیا کے باھر سورج ہے تو اب اس کو منانےکے لئے کہ باہر اندھیرا ہے کوئی راستہ نہیں بچے گا۔



ارتقاء پرست بھی ایسی مشکلات کا شکار ہیں۔١۵۰ سالوں سے انہوں نے بیشرمی سے اپنے ہر قسم کے فریب کو سائنس کے نام پر دنیا میں پھیلایا ہے۔انہوں نے ایسا کرنے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کی کیوں کہ انہوں نے خود کو یہ یقین دلایا کہ وہ لوگوں کو ان جھوٹے ثبوتوں کے ساتھ دھوکہ کر سکتے ہیں۔اس جھوٹ کو شدید تلقین، بصری اثرات اور تنویم کے ساتھ بار بار دہرایا گیا، اور اس طرح اس نے حیران کن حد تک حمایت حاصل کرلی۔البتہ، جیسا کہ ہر چیز ارتقاء پرستوں کی منصوبہ بندی کے مطابق جا رہی تھی، اور جب لوگ کچھ بھی سوچنے اور سمجھنے کے قابل نا رہے، اور ارتقاء کو رد کرنا ایک جرم سمجھا جانے لگا، اچانک لوگوں نے سورج کی ایک کرن دیکھی، وہ تھی نقشہء تخلیق ﴿Atlas of creation﴾۔

نقشہء تخلیق ﴿Atlas of creation﴾ کے اچانک عالمی پھیلاو کی وجہ سے لوگوں کو ارتقاء کے وجود پر قائل کرنا مشکل ہوگیا۔ کوئی ایک بھی ارتقاء پسند نقشہء تخلیق میں دیے ہوئے ہزاروں زندہ فوسلس کو رد نا کر سکا ہے۔اس کے علاوہ، اس عمدہ کتاب میں دیا ہوئا کوئی ایک بھی فوسل ارتقاء کو کچلنے کے لیے کافی تھا۔ اس لیے، فرانس کی میڈیا، جو ڈارونزم کے گڑہ میں سے ہے، نقشہء تخلیق کی وجہ سے بلکل ہی خوف زدہ ہوگئی، اور مختلف باتیں بنانے لگی جیسے “فرانس کی تاریخ میں بدترین آفت” “آسماں سے مصیبت برس چکی ہے ” “ہماری سالوں پرانی تہذیب تباہ ہو چکی ہے۔ ”


نقشہء تخلیق نے تمام مسلمانوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا


جناب اوقتار کا نقشہء تخلیق کے ذریعے اس حقیقت کہ ایک بھی پروٹین اتفاق سے وجود میں نہیں آ سکتا اور لاکھوں زندگی کی اشکال کبھی تبدیل نہیں ہوئیں کا عالمی چرچہ کرنا اور اسے ثابت کرنا ارتقاء کو ختم کرنے کے لئے آج تک سب سے زیادہ مؤثر قدم رہا ہے۔اس بے انتہا کامیابی کی وجہ سے مذہبی مسلمان، عیسائی اور یہودی آزادی سے کام کرنے کے قابل ہو گئے ہیں اور ان کو خود اعتمادی حاصل ہوگئی ہے۔کچھ سچے ایمان والے، جو کہ پہلے ڈارونیت کی وجہ سے اداس اور ہارے ہوئے تھے ، اور واقعی میں کسی بھی سرگرمی میں حصا لینے کے قابل نہیں تھے، اس بہت اہم کام کی وجہ سے مظبوط ہونا شروع ہو گئے۔ جناب اوقتار کی قابل قدر اور پر عزم سرگرمیوں کے بعد یہ ممکن ہو گیا ہے کہ لوگ ایسی کانفرنسز منعقد کروائیں جن کا مقصد ارتقاء کی دھوکےبازیا سامنے لانا ہے اور لوگوں کو اﷲ کی وحدانیت پر ایمان لانے کے لئے امریکی فوجی اڈوں سے بھی دعوت دینا اور لنڈن کی گلیوں میں گھومتی بسوں پر “اﷲ موجود ہے” جیسی حقیقت کو تحریر کرنا ممکن ہوگیا ہے۔

ان تمام اہم سرگرمیوں کے تناظر میں، تخلیق پر کانفرنسز کینیڈا، امریکہ، سوئٹزرلینڈ ، بیلجیم، جرمنی، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ، فرانس، ڈنمارک، سویڈن، انڈونیشیا اور ملائیشیا، سنگاپور ، دبئی اور بہت سے دیگر ممالک میں منعقد کی گئی جن میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔، جب کہ دنیا بھر سے ٹی وی اسٹیشنز اور اخبارات نے ان عظیم کامیابیوں کا حوالہ دیا ہے۔

اس شاندار کامیابی کے فوراً بعد کچھ Darwinists اس اندوشواسی مذہب میں اعتماد کھو دیا۔ ان میں مزید اس فریب کو جس کی انہوں نے سالوں سے تبلیغ کی تھی بچانے کے لئے طاقت نہیں بچی تھی ناہی وہ کوئی اور جھوٹ لا سکتے تھے۔ ڈارونیت کے ارسال ایک کے بعد ایک بندہوتے چلے جا رہے ہیں،مالی وجوہات کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اس پر یقین کھو دیا ہے اور چھپائی بند کر رہےہیں۔ دنیا میں مشہور ڈارونیت کی حمایت کرنے والی پبلیکیشنز جو کہ اپنے فریب سے ہر ہفتے اپناپورا میگزین بھرتے تھے اب وہ ایک بھی پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ Darwinist propaganda ، ڈارونزم کی طاقت کا واحد ذریعہ، خاموشی سے ختم ہو گئی ہے۔ارتقاء پرست جو کہ ہر پراپیگنڈے کی تکنیکوں سے ارتقاء کو آگے کرنے میں لگے ہوتے تھے اچانک سے خاموش ہوگئے ہیں اور اب مزید بدنام نہیں ہونا چاہتے۔

ڈارونزم کی لعنت سے آزادی کے لئے دروازہ ہمیشہ کھلا ہے

تخلیق کی حقیقت پر کافرنسز جو کہ جناب عدنان اوقتار کی تحریروں پر مشتمل ہیں دنیا کے بڑے شہروں میں اثر دکھایا ہے۔
سوئٹزرلینڈ ۔ لئاسائن >>> سوئٹزرلینڈ ۔ لئاسائن >>>
جرمنی ۔ لیونن >>> فرانس ۔ پیرس >>>
جناب عدنان اوقتار کو سان انتونیو ایئر بیس امریکہ میں کانفرنس منقعد کرنے کہ بعد ملنے والا میڈل

The door to liberation from the scourge of Darwinism is always open

سارے مصنوعی مذاہب اس آخر زماں جس میں ہم رہ رہے ہیں اور جس میں حضرت مہدی اور حضرت عیسٰی ظاہر ہونگے ایک خوفناک اور بہت بڑی تباہی کا شکار ہیں۔ اس تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ اﷲ کا قانون ہے۔ اﷲ اس وقت ڈارونیت کے خلاف جناب اوقتار کے کام کو استعمال کر رہےہیں ۔ وہ سب لوگ جنہوں نے ڈارونیت کو آنکھے بند مانتے تھے جلد ہی یہ جان کر تعجب میں پڑ جائیں گے کہ انہیں دھوکا دیا گیا تھا۔ جبکہ ارتقاء پرست خود کو غلط جگہ دیکھ کر افسوس کریں گے۔ پر دیر کبھی بھی نہیں ہوتی ، پر شکست قبول کر کہ سچائی کی طرف آنا اور اس کا چرچہ کرنا ایک انسان کی عظیم وصف ہے۔ لہذا، وہ ارتقاء پرست جو کہ ڈارونیت کی اصلیت کو جان چکے ہیں ان کے پاس موقعہ ہے کہ وہ اس خوفناک غلطی کو درست کریں جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کری تھیں۔